19 ستمبر 2021 - 15:30
اربعین کے دوران بین الاقوامی سطح پر سرگرم افراد کے ساتھ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی نشست

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی نے اس نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: اربعین کے اندر بے شمار صلاحیتیں پائی جاتی ہیں اور جذبات و احساسات کا اظہار ان صلاحیتوں میں سے ایک ہے۔ کربلا سے زیادہ احساسات اور جذبات پر مبنی تاریخ بشریت میں کوئی واقعہ نظر نہیں آتا جو انسان کے وجود کے اندر انقلاب برپا کر دے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اربعین کے دوران بین الاقوامی میدان میں سرگرم افراد کے ساتھ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے قم اسمبلی دفتر میں ایک نشست کا انعقاد کیا۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے نائب سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین احمد احمدی تبار نے اس نشست کے ابتدا میں اربعین کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اربعین کا دینی ثقافت میں ایک خاص مقام ہے اربعین میں مختلف پہلو منجملہ عشق و محبت اور امام حسین (ع) کی راہ میں ایثار و قربانی کا جذبہ نظر آتا ہے، اور اس راہ میں بہت اچھے کارنامے بھی انجام پائے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: عالمی میڈیا نے اربعین کے ساتھ بائیکاٹ کیا ہوا ہے لہذا ہمیں کوشش کرنا چاہیے کہ اربعین میں شرکت کرنے والا ہر شخص خود میڈیا کی حیثیت پیدا کرے تاکہ میڈیا کا بائیکاٹ توڑا جا سکے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی نے اس نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: اربعین کے اندر بے شمار صلاحیتیں پائی جاتی ہیں اور جذبات و احساسات کا اظہار ان صلاحیتوں میں سے ایک ہے۔ کربلا سے زیادہ احساسات اور جذبات پر مبنی تاریخ بشریت میں کوئی واقعہ نظر نہیں آتا جو انسان کے وجود کے اندر انقلاب برپا کر دے، اربعین کے دوسرے پہلو اخلاقی اور عرفانی بھی ہیں۔
انہوں نے اربعین کی صلاحیتوں پر توجہ کو ضروری سمجھتے ہوئے کہا: ان صلاحیتوں پر مزید توجہ ہونا چاہیے اور ان کے عقلانی، تربیتی، سماجی اور سیاسی پہلوؤں کو اجاگر کرنا چاہیے اور کسی بھی صورت میں ان سے غفلت قبول نہیں ہے۔
امور حج و زیارات میں نمائندہ ولی فقیہ حجۃ الاسلام و المسلمین عبد الفتاح نواب نے اربعین سے متعلق منعقدہ نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: اربعین ایک عظیم موقع کا نام ہے دنیا بھر میں پیدل مارچ ہوتا ہے لیکن اربعین کے موقع پر ہونے والا پیدل مارچ انسانیت کو بیدار کرتا اور ان کے ضمیروں کو جھجھوڑتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اربعین کے چاہنے والے صرف شیعہ نہیں ہیں بلکہ اہل سنت اور عیسائی بھی اس موقع پر خدمات فراہم کرنے کے لیے حاضر ہوتے ہیں اگر کورونا نہ پھیلتا تو اربعین کا ملین مارچ عالمی حیثیت اختیار کر لیتا۔
موسسہ وارث الانبیا کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین رافد التمیمی نے اس نشست میں کہا: اربعین کی زیارت نے عراق اور دیگر ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات پر بہت گہرے اثرات چھوڑے ہیں اسلام اور شیعت کے دشمن زیارت اربعین سے خوفزدہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: عالمی سامراج نے خصوصا ان حالیہ سالوں میں کافی کوشش کی ہے کہ ایران اور عراق کے اندر پھوٹ ڈالیں اس لیے کہ وہ اربعین سے ڈر رہے ہیں زیارت اربعین نے بتا دیا کہ ایران اور عراق کے عوام ایک ہی ہیں اور ہمیں اس اتحاد کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرنا چاہیے۔
اس نشست کے آخر میں اربعین کے موقع پر موکب لگانے والے افراد نے اپنی اپنی سرگرمیاں بیان کیں اور بین الاقوامی سطح پر موکب داروں کی ایک کونسل تشکیل دینے کا منصوبہ بنایا گیا۔

..........

242